ان آنکھوں میں نمی آتی نہیں اب
تمہاری یاد بھی آتی نہیں اب
ہرے جنگل سے واپس لوٹتا ہوں
وہاں کوئی پری آتی نہیں اب
دکانیں بند ہوئی جاتی ہیں ساری
وہ کھڑکی پر کبھی آتی نہیں اب
کوئی ہمسر نہیں تنہائیوں میں
غمِ دل میں کمی آتی نہیں اب
بہت ممکن ہے دریا سُوکھ جائے
جو آتی تھی کبھی، آتی نہیں اب
تمہارے ہجر نے یہ رزق روکا
کہیں سے شاعری آتی نہیں اب
بمشکل سانس لے پاتا ہوں ذاکر
ہوا میں تازگی آتی نہیں اب
ذاکر حسین
No comments:
Post a Comment