Friday, 4 June 2021

ان آنکھوں میں نمی آتی نہیں اب

 ان آنکھوں میں نمی آتی نہیں اب

تمہاری یاد بھی آتی نہیں اب

ہرے جنگل سے واپس لوٹتا ہوں

وہاں کوئی پری آتی نہیں اب

دکانیں بند ہوئی جاتی ہیں ساری

وہ کھڑکی پر کبھی آتی نہیں اب

کوئی ہمسر نہیں تنہائیوں میں

غمِ دل میں کمی آتی نہیں اب

بہت ممکن ہے دریا سُوکھ جائے

جو آتی تھی کبھی، آتی نہیں اب

تمہارے ہجر نے یہ رزق روکا

کہیں سے شاعری آتی نہیں اب

بمشکل سانس لے پاتا ہوں ذاکر

ہوا میں تازگی آتی نہیں اب


ذاکر حسین

No comments:

Post a Comment