Friday, 4 June 2021

فضائے شہر ہوئی سوگوار تیرے بغیر

 فضائے شہر ہوئی سوگوار تیرے بغیر

میں جی نہیں سکا اک پل بھی یار تیرے بغیر

یہ ضبط ہے یا مِرے اشک کی بغاوت ہے

میں رو سکا نہ مِرے غمگسار تیرے بغیر

کسی نے چھین لیا وقت میرے ہاتھوں سے

کروں گا کس کا بھلا انتظار تیرے بغیر

جو ہو سکے تو کسی پہر لوٹ کر آنا

کہ دل مِرا ہے بہت بے قرار تیرے بغیر


سلیم عباس

No comments:

Post a Comment