فضائے شہر ہوئی سوگوار تیرے بغیر
میں جی نہیں سکا اک پل بھی یار تیرے بغیر
یہ ضبط ہے یا مِرے اشک کی بغاوت ہے
میں رو سکا نہ مِرے غمگسار تیرے بغیر
کسی نے چھین لیا وقت میرے ہاتھوں سے
کروں گا کس کا بھلا انتظار تیرے بغیر
جو ہو سکے تو کسی پہر لوٹ کر آنا
کہ دل مِرا ہے بہت بے قرار تیرے بغیر
سلیم عباس
No comments:
Post a Comment