کسی سے کیسے ہو اب میرے قد کی پیمائش
جو جانتا ہی نہیں، اپنی حد کی پیمائش
زمیں خریدی، ایک اک انچ ناپ کر تُو نے
تجھے پتہ بھی ہے کیا ہے لحد کی پیمائش؟
نہ کیجیے گا کسی کے عمل پہ رائے زنی
کہ ہو گی حشر کے دِن نیک و بد کی پیمائش
پہنچ رہی ہے کُمک جنگِ زندگی کے لیے
قضا کرے گی الٰہی رسد کی پیمائش
محبتوں میں دلوں کا تبادلہ کیسا
قبولیت کی ہی ہو گی، نہ رَد کی پیمائش
اِسی لئے تو ہر اک کام خُوب صورت ہے
ہوئی ہے عشق کے ہاتھوں خرد کی پیمائش
عزیز وسعتِ دامن کا انتظام کرو
ہے کس کے بس میں خدا کی مدد کی پیمائش
عزیز بلگامی
No comments:
Post a Comment