Friday, 4 June 2021

بات کی بات رہے بات کا مفہوم رہے

 بات کی بات رہے بات کا مفہوم رہے

اور تخیل مِرا تازہ رہے معصوم رہے

ہر نئی سوچ کو مضمون بنا لوں گا مگر

میرا کردار مِری ذات سے موسوم رہے

میری پہچان کے سب لوگ جدا ہوتے گئے

جو بچے میری طرح بے بس و مظلوم رہے

آج تک بنتے رہے ہیں جو ہمارے ضامن

ان سے ہم ہاتھ ملانے سے بھی محروم رہے

اب تو بس خود ہی سنا کرتے ہیں اپنی آواز

آپ کے قدموں کی آہٹ سے بھی محروم رہے


جگدیش پرکاش

No comments:

Post a Comment