Thursday, 12 November 2020

دیکھنے میں جو خداؤں سے ڈرے سوچتے ہیں

 دیکھنے میں جو خداؤں سے ڈرے سوچتے ہیں

کون جانے کہ اکیلے میں کسے سوچتے ہیں

ہم ترے دست مسیحائی کو ترسے ہوئے لوگ

جس سے بھی ہاتھ ملاتے ہیں تجھے سوچتے ہیں

یہ تجھے دیکھنے کی کوششِ ناکام ہے پر

شہر میں جتنے بھی اندھے ہیں دِیے سوچتے ہیں

کس کجاوے میں رکھا جائے گا پیالۂ عزیز

اونٹ سب اپنی قطاروں میں لگے سوچتے ہیں

اس جگہ تُو ہو وہاں پر وہ میسر آ جائے

یعنی ہم دونوں جہانوں کے مزے سوچتے ہیں

اک جگہ پر ہی گرہ پڑتی ہے اور اس کے بعد

دوسرے موقعے کی خواہش کو سرے سوچتے ہیں

جن میں تحدید کا عنصر ہی کہیں دب گیا ہو

وہ زمیں کو بھی کناروں سے بڑھےسوچتے ہیں

دن میں کمرے سے کوئی بھوت نکل جاتا ہے

رات کو ہم اسی کمرے میں مَرے سوچتے ہیں


ذکی عاطف

No comments:

Post a Comment