دیکھنے میں جو خداؤں سے ڈرے سوچتے ہیں
کون جانے کہ اکیلے میں کسے سوچتے ہیں
ہم ترے دست مسیحائی کو ترسے ہوئے لوگ
جس سے بھی ہاتھ ملاتے ہیں تجھے سوچتے ہیں
یہ تجھے دیکھنے کی کوششِ ناکام ہے پر
شہر میں جتنے بھی اندھے ہیں دِیے سوچتے ہیں
کس کجاوے میں رکھا جائے گا پیالۂ عزیز
اونٹ سب اپنی قطاروں میں لگے سوچتے ہیں
اس جگہ تُو ہو وہاں پر وہ میسر آ جائے
یعنی ہم دونوں جہانوں کے مزے سوچتے ہیں
اک جگہ پر ہی گرہ پڑتی ہے اور اس کے بعد
دوسرے موقعے کی خواہش کو سرے سوچتے ہیں
جن میں تحدید کا عنصر ہی کہیں دب گیا ہو
وہ زمیں کو بھی کناروں سے بڑھےسوچتے ہیں
دن میں کمرے سے کوئی بھوت نکل جاتا ہے
رات کو ہم اسی کمرے میں مَرے سوچتے ہیں
ذکی عاطف
No comments:
Post a Comment