محورِ ذات وہی وعدہ فراموش رہے
ہم یہی سوچ کے اک عمر سِیہ پوش رہے
قصۂ غم ہے کہیں اور سنانے کا نہیں
ہم کو درکار ہے دیوار جو خاموش رہے
سارے الزام سرِ بزم ہمِیں پر آئے
اور ہم اہلِ مروت تھے کہ خاموش رہے
تجھ سے اک عہدِ محبت کو نبھاتے ہوئے ہم
عمر بھر کارِ محبت سے سبکدوش رہے
شعیب بخاری
No comments:
Post a Comment