شدید اتنا رہا تیرا انتظار مجھے
”کہ وقت مِنتیں کرتا رہا؛ “گزار مجھے
اب اپنا اپنا مقدر، شکایتیں کیسی؟
تجھے بہار نے گل دے دئیے تو خار مجھے
میں تیرا میرا تعلق بچاتے جاں سے گیا
تُو پھر بھی اپنوں میں کرتا نہیں شمار مجھے
چلا میں روٹھ کر، آواز تک نہ دی اس نے
”میں دل میں چیخ کے کہتا رہا، “پکار مجھے
بچھڑ کے تجھ سے میں اک سانس تک نہیں لوں گا
خدا نے گر دیا دھڑکن پہ اختیار مجھے
وفا کے نام پہ جو قتلِ اعتبار کریں
خدایا ایسوں کی بستی میں مت اتار مجھے
نصیب ہوتی نہیں منزلیں یہاں پہ اسیر
رہِ وفا کا یہ کہتا رہا غبار مجھے
غلام نبی اسیر
No comments:
Post a Comment