Friday, 12 March 2021

برائے نام غذا کے لیے بنے ہوئے ہیں

 برائے نام غذا کے لیے بنے ہوئے ہیں

تمہارے ہونٹ ضیا کے لیے بنے ہوئے ہیں

ہم ایسی آئتیں بے ترجمہ پڑھی گئی تھیں

ہم ایسے سجدے قضا کے لیے بنے ہوئے ہیں

یہ آنکھیں دیکھنے کے کام تو نہیں آتیں

یہ دونوں کان ہوا کے لیے بنے ہوئے ہیں

سہولتیں ہیں تو ہیں ساتھ ساتھ مسئلے بھی 

وہ مسئلے جو خدا کے لیے بنے ہوئے ہیں

یہ کُنڈیاں ہیں بلا مقصد و جواز یہاں 

یہ سب کواڑ صدا کے لیے بنے ہوئے ہیں

ہم اپنی اپنی صلیبیں اٹھا کے نکلے تھے 

یہ رستے خون بہا کے لیے بنے ہوئے ہیں

تمہارے ہاتھ بنے ہوں گے لمس بانٹنے کو

ہمارے ہاتھ دعا کے لیے بنے ہوئے ہیں


ذکی عاطف

No comments:

Post a Comment