برائے نام غذا کے لیے بنے ہوئے ہیں
تمہارے ہونٹ ضیا کے لیے بنے ہوئے ہیں
ہم ایسی آئتیں بے ترجمہ پڑھی گئی تھیں
ہم ایسے سجدے قضا کے لیے بنے ہوئے ہیں
یہ آنکھیں دیکھنے کے کام تو نہیں آتیں
یہ دونوں کان ہوا کے لیے بنے ہوئے ہیں
سہولتیں ہیں تو ہیں ساتھ ساتھ مسئلے بھی
وہ مسئلے جو خدا کے لیے بنے ہوئے ہیں
یہ کُنڈیاں ہیں بلا مقصد و جواز یہاں
یہ سب کواڑ صدا کے لیے بنے ہوئے ہیں
ہم اپنی اپنی صلیبیں اٹھا کے نکلے تھے
یہ رستے خون بہا کے لیے بنے ہوئے ہیں
تمہارے ہاتھ بنے ہوں گے لمس بانٹنے کو
ہمارے ہاتھ دعا کے لیے بنے ہوئے ہیں
ذکی عاطف
No comments:
Post a Comment