محبت کی نامکمل نظم
اک ہمہ وقت تصور جو توجہ نہیں کھونے دیتا
کتنی جہتوں سے کٹا رہتا ہوں دن بھر لیکن
شام ہوتی ہے تو بھر جاتا ہے دل چشمِ زدن میں تجھ سے
اور میں سوچنے لگتا ہوں کہ
مصروفیت و واہمۂ گردشِ ایام تِرا حل نہیں ہیں
تُو کہیں گہری اترتی چلی جاتی ہے
جوں اک گھاٹی کے نشیب میں جھیل
ایک خوشبو سی مہک اٹھتی ہے پھر چاروں طرف
اور اتر آتی ہیں پریاں وہاں
گاتی ہوئی فردوس کے گیت
جو تِری آنکھیں نہ دیکھے
اسے خوشیوں کے تصور کا گماں کیونکر ہو
اب جو یاد آئی ہے ان جنگلی پھولوں کی آنچ
جو تِرے چہرے کے دونوں طرف
اُگ آئے ہیں خوشرنگ گلاب
ان کی قیمت تو جہاں بھر کی محبت بھی نہیں
یہ بہت ہے کہ میں لکھ سکتا ہوں تجھ پر نظمیں
لڑکیاں یوں تو صحیفوں کے لیے ہوتی ہیں
ذکی عاطف
No comments:
Post a Comment