فکر اب نہیں کوئی اشکِ غم بہانے کی
راس آ گئیں ہم کو گردشیں زمانے کی
بارگاہِ الفت میں چار سمت خوشبو ہے
کچھ تمہاری باتوں کی کچھ مِرے فسانے کی
پھول توڑ کر دیکھو، وہ بھی آہ بھرتا ہے
بس صدا نہیں آتی دل کے ٹوٹ جانے کی
بس اسی تذبذب میں عمر کٹ گئی اپنی
خوف برگ و باراں کا فکر آشیانے کی
یہ مزے اسیری کے اہلِ شہر کیا جانیں
گھر میں دیکھ لیتا ہوں شکل قید خانے کی
روشنی سے بام و در شہر کے منور ہیں
کیا مجھے اجازت ہے دیا جلانے کی
مثل ہے کہاں یارو! اختر سخنور کا
اب نہ آرزو کرنا اس کو آزمانے کی
اختر ہاشمی
No comments:
Post a Comment