دھوپ سہنی ہے مگر رستہ ڈھکا رکھنا ہے
ہم درختوں نے ہی جنگل کو ہرا رکھنا ہے
تاکہ زنداں میں سہولت سے گزر پائے ہوا
جسم کو جگہ تو دینی ہے، خلا رکھنا ہے
ایک دن ایسے ہی پوچھا کہ مجھے رکھ لو گے
بے یقینی سے کسی نے یہ کہا "رکھنا ہے"
اے مسیحا تِری خیریں! کہ وہ اچھا ہو گا
تُو نے جس دل پہ تِرا دستِ شفا رکھنا ہے
زادِ رہ حسبِ ضرورت ہے اٹھایا سب نے
ہم ابھی سوچ رہے ہیں ہمیں کیا رکھنا ہے
ہم نے کوئی بھی تقاضہ نہیں کرنا تجھ سے
زندگی تیری طرف جو بھی بچا رکھنا ہے
جب سفر کرنا ہے تو کیسا تردّد اس میں
دشت میں کس نے بھلا سمت نما رکھنا ہے
ذکی عاطف
No comments:
Post a Comment