Monday, 21 June 2021

دھوپ سہنی ہے مگر رستہ ڈھکا رکھنا ہے

 دھوپ سہنی ہے مگر رستہ ڈھکا رکھنا ہے

ہم درختوں نے ہی جنگل کو ہرا رکھنا ہے

تاکہ زنداں میں سہولت سے گزر پائے ہوا

جسم کو جگہ تو دینی ہے، خلا رکھنا ہے

ایک دن ایسے ہی پوچھا کہ مجھے رکھ لو گے

بے یقینی سے کسی نے یہ کہا "رکھنا ہے"

اے مسیحا تِری خیریں! کہ وہ اچھا ہو گا

تُو نے جس دل پہ تِرا دستِ شفا رکھنا ہے

زادِ رہ حسبِ ضرورت ہے اٹھایا سب نے

ہم ابھی سوچ رہے ہیں ہمیں کیا رکھنا ہے

ہم نے کوئی بھی تقاضہ نہیں کرنا تجھ سے

زندگی تیری طرف جو بھی بچا رکھنا ہے

جب سفر کرنا ہے تو کیسا تردّد اس میں

دشت میں کس نے بھلا سمت نما رکھنا ہے


ذکی عاطف

No comments:

Post a Comment