Thursday, 23 July 2020

جاؤں جس سمت اجازت ہے مجھے

جاؤں جس سمت اجازت ہے مجھے
دشت میں‌ کتنی سہولت ہے مجھے
تم بھی مصروف نظر آتے ہو
میں‌ بھی چلتا ہوں‌ کہ عجلت ہے مجھے
ان مکینوں‌ کا سلوک اپنی جگہ
در و دیوار پہ حیرت ہے مجھے
یاد رکھتا ہوں‌ جہاں‌ لوگوں‌ کو
بھول جانے کی بھی عادت ہے مجھے
کام کچھ آن پڑا ہے ایسا
ورنہ کب دل کی ضرورت ہے مجھے
زندگی تجھ سے تِرے بارے میں
پوچھ سکتا ہوں‌ اجازت ہے مجھے؟

کاشف حسین غائر

No comments:

Post a Comment