جاؤں جس سمت اجازت ہے مجھے
دشت میں کتنی سہولت ہے مجھے
تم بھی مصروف نظر آتے ہو
میں بھی چلتا ہوں کہ عجلت ہے مجھے
ان مکینوں کا سلوک اپنی جگہ
یاد رکھتا ہوں جہاں لوگوں کو
بھول جانے کی بھی عادت ہے مجھے
کام کچھ آن پڑا ہے ایسا
ورنہ کب دل کی ضرورت ہے مجھے
زندگی تجھ سے تِرے بارے میں
پوچھ سکتا ہوں اجازت ہے مجھے؟
کاشف حسین غائر
No comments:
Post a Comment