Thursday, 15 July 2021

دشت وحشت نے پھر پکارا ہے

 دشتِ وحشت نے پھر پکارا ہے

زندگی آج تو گوارا ہے

ڈوبنے سے بچا کے مانجھی نے

درد کے گھاٹ لا اتارا ہے

لاکھ تو مجھ سے ہے مگر مجھ میں

کب تِری ہمسری کا یارا ہے

بات اپنی انا کی ہے، ورنہ

یوں تو دو ہاتھ پر کنارا ہے

دل کی گنجان رہگزاروں میں

کرب تنہائی کا سہارا ہے

لوگ مرتے ہیں بند آنکھوں سے

ہم کو اس آگہی نے مارا ہے

جانِ شہزاد زندگی کا سفر

ہم نے بے کارواں گزارا ہے


فرحت احساس

No comments:

Post a Comment