مجھے تو کہتے ہو پیاروں سے ہوشیار رہو
اے چاند تم بھی ستاروں سے ہوشیار رہو
منافقت کی جہاں میں ہوا چلی ہوئی ہے
حبیب جتنے ہیں ساروں سے ہوشیار رہو
جو بات بات پہ کہتے ہیں جاں لُٹا دیں گے
بس ایسے جان نثاروں سے ہوشیار رہو
وہ اور دور تھا دشمن سے لوگ ڈرتے تھے
یہ اُلٹا دور ہے، یاروں سے ہوشیار رہو
ہر ایک سمت محافظ کھڑے ہیں ان کے ساتھ
جو توڑو پُھول تو خاروں سے ہوشیار رہو
حسین لوگ ہیں سارے دلوں کے سوداگر
کرو جو پیار خساروں سے ہوشیار رہو
یہ شہر کوفہ ہے باقر جو گھر سے نکلو تو
ہر اک بشر کے اشاروں سے ہوشیار رہو
مرید باقر انصاری
No comments:
Post a Comment