Thursday, 15 July 2021

مجھے تو کہتے ہو پیاروں سے ہوشیار رہو

 مجھے تو کہتے ہو پیاروں سے ہوشیار رہو

اے چاند تم بھی ستاروں سے ہوشیار رہو

منافقت کی جہاں میں ہوا چلی ہوئی ہے

حبیب جتنے ہیں ساروں سے ہوشیار رہو

جو بات بات پہ کہتے ہیں جاں لُٹا دیں گے

بس ایسے جان نثاروں سے ہوشیار رہو

وہ اور دور تھا دشمن سے لوگ ڈرتے تھے

یہ اُلٹا دور ہے، یاروں سے ہوشیار رہو

ہر ایک سمت محافظ کھڑے ہیں ان کے ساتھ

جو توڑو پُھول تو خاروں سے ہوشیار رہو

حسین لوگ ہیں سارے دلوں کے سوداگر

کرو جو پیار خساروں سے ہوشیار رہو

یہ شہر کوفہ ہے باقر جو گھر سے نکلو تو

ہر اک بشر کے اشاروں سے ہوشیار رہو


مرید باقر انصاری

No comments:

Post a Comment