Thursday, 15 July 2021

یاد آتے ہی رہے دل سے نکالے ہوئے لوگ

 یاد آتے ہی رہے دل سے نکالے ہوئے لوگ

کس کی میراث تھے اور کس کے حوالے ہوئے لوگ

شہرِ آشوب میں آنسو کی طرح پھرتے ہیں

ہائے وہ لوگ کسی خواب کے پالے ہوئے لوگ

اول اول تو ہماری ہی طرح لگتے تھے

منصبِ عشق پہ آئے تو نرالے ہوئے لوگ

جانے کس سمت انہیں تلخیٔ دوراں لے جائے

اپنی پہچان کو نیزوں پہ اُچھالے ہوئے لوگ

ایک رُت آئی کہ خوشبو کی طرح پھیل گئے

اور پھر وقت کی موجوں کے حوالے ہوئے لوگ


فرحت زاہد

No comments:

Post a Comment