Thursday, 15 July 2021

مسلسل اک قیامت ٹھیک ہے کیا

 مسلسل اک قیامت، ٹھیک ہے کیا

ستم ڈھانے کے عادت، ٹھیک ہے کیا

بِچھڑنا ہے تو پھر کیسا تکلف؟

ہمیں سے یہ اجازت، ٹھیک ہے کیا

ابھی تو آئی ہے فصلِ بہاراں

بچھڑنے کی یہ ساعت، ٹھیک ہے کیا

اذیت ہے تمہارا روٹھ جانا

عزیزِ جاں! اذیت، ٹھیک ہے کیا

سفر تنہا کہاں کٹتا ہے جاناں

یہ اک طرفہ محبت، ٹھیک ہے کیا

جو یہ تمہید باندھی جا رہی ہے

کسی مخلص پہ تہمت، ٹھیک ہے کیا

شکستِ عہد و پیماں پر ندامت

یہ آئے دن ندامت، ٹھیک ہے کیا

ابھی تو چاند کا سایا پڑا ہے

ابھی سے اتنی وحشت، ٹھیک ہے کیا

محبت کو الگ رکھو وفا سے

کہانی میں حقیقت، ٹھیک ہے کیا

سبب کوئی تو ہو گا بے رخی کا

یونہی بے وجہ نفرت، ٹھیک ہے کیا

یہ گہری خامشی فرقت سے پہلے

یہ مبہم سی وضاحت، ٹھیک ہے کیا


جاوید اکرم

No comments:

Post a Comment