Wednesday, 22 July 2020

ذات سمندر بن جاتی ہے

سمندر

لفظ بہت سے
جگمگ جگمگ کرتے تارے
چاند نہیں بننے پاتے ہیں
رات گلے میں پھنس جاتی ہے
جذبے کتنے
بورائی الہڑ خوشبوئیں
پھول نہیں بننے پاتی ہیں
ذات  گلے میں پھنس جاتی ہے
لیکن اکثر
تیری یادیں
تیرا چہرہ بن کر آئیں
جگمگ جگمگ کرتے تارے
بورائی الہڑ خوشبوئیں
چاند جلے رہتے ہیں شب بھر
پھول کھلے رہتے ہیں شب بھر
رات سمندر بن جاتی ہے
ذات سمندر بن جاتی ہے

فرحت احساس

No comments:

Post a Comment