Wednesday, 22 July 2020

وہ آج لوٹ بھی آئے تو اس سے کیا ہو گا

وہ آج لوٹ بھی آئے تو اس سے کیا ہو گا
اب اس نگاہ کا پتھر سے سامنا ہو گا
زمیں کے زخم سمندر تو بھر نہ پائے گا
یہ کام دیدۂ تر تجھ کو "سونپنا" ہو گا
ہزار نیزے ادھر اور میں ادھر تنہا
مِری شکست کا عنواں ہی دوسرا ہو گا
جو تیز دھوپ میں سایوں کی فصل بوتے ہیں
یہاں کی آب و ہوا کا انہیں پتہ ہو گا
میں اور ایک قدم اس کی سمت بڑھ جاتا
پتہ" نہ تھا کہ وہ اتنا "گریز" پا ہو گا"
مِرا یقیں ہے کہ راہ وفا میں میرے بعد
مِرا سفر تِرے قدموں نے طے کیا ہو گا

کیفی وجدانی

No comments:

Post a Comment