وہ آج لوٹ بھی آئے تو اس سے کیا ہو گا
اب اس نگاہ کا پتھر سے سامنا ہو گا
زمیں کے زخم سمندر تو بھر نہ پائے گا
یہ کام دیدۂ تر تجھ کو "سونپنا" ہو گا
ہزار نیزے ادھر اور میں ادھر تنہا
جو تیز دھوپ میں سایوں کی فصل بوتے ہیں
یہاں کی آب و ہوا کا انہیں پتہ ہو گا
میں اور ایک قدم اس کی سمت بڑھ جاتا
پتہ" نہ تھا کہ وہ اتنا "گریز" پا ہو گا"
مِرا یقیں ہے کہ راہ وفا میں میرے بعد
مِرا سفر تِرے قدموں نے طے کیا ہو گا
کیفی وجدانی
No comments:
Post a Comment