جب خیمہ زنو! 'زور' ہواؤں کا 'گھٹے' گا
خُوں میری ہتھیلی کا طنابوں پہ ملے گا
ہو پیاس تو خود اپنے ہی ہونٹوں کا لہو چُوس
سُوکھی ہوئی جھیلوں میں تجھے کچھ نہ ملے گا
جلتے ہوۓ رَستوں کے لیے دیکھ لیا کر
بستی میں غریبوں کی جہاں آگ لگی تھی
سنتے ہیں وہاں ایک نیا "شہر" بسے گا
پیڑوں کی اگر نسل کُشی ختم نہیں کی
کچھ دن میں یہاں پیڑوں کا سایہ بھی بِکے گا
بس آگ اُگل سکتی ہیں یہ مُردہ زمینیں
بیکار سی کوشش ہے یہاں کچھ نہ اُگے گا
وہ مُردہ دِلی شام سے پہلے کی ادا تھی
اِس وقت تو کیفی کسی مقتل میں مِلے گا
کیفی وجدانی
No comments:
Post a Comment