اب دل کی طرف درد کی یلغار بہت ہے
دنیا مرے زخموں کی طلب گار بہت ہے
اب 'ٹوٹ' رہا ہے مِری ہستی کا تصور
اس وقت مجھے تجھ سے سروکار بہت ہے
مٹی کی یہ دیوار کہیں 'ٹوٹ' نہ جائے
ہر سانس اکھڑ جانے کی کوشش میں پریشاں
سینے میں کوئی ہے جو 'گرفتار' بہت ہے
پانی سے الجھتے ہوئے 'انسان' کا یہ شور
اس پار بھی ہو گا، مگر اس پار بہت ہے
فرحت احساس
No comments:
Post a Comment