پیکرِ عقل تِرے "ہوش" ٹھکانے لگ جائیں
تیرے پیچھے بھی جو ہم جیسے دِوانے لگ جائیں
اس کا "منصوبہ" یہ لگتا ہے، گلی میں اس کی
ہم یوں ہی خاک اڑانے میں ٹھکانے لگ جائیں
سوچ کس کام کی رہ جائے گی تیری یہ بہار
سب کے جیسی نہ بنا زلف کہ ہم سادہ نگاہ
تیرے دھوکے میں کسی اور کے شانے لگ جائیں
رات بھر روتا ہوں اتنا کہ عجب کیا اس میں
ڈھیر پھولوں کے اگر مِرے سرہانے لگ جائیں
دشت کرنا ہے ہمیں شہر کے اک گوشے کو
تو چلو کام پہ ہم سارے دِوانے لگ جائیں
فرحتؔ احساس اب ایسا بھی اک آہنگ کہ لوگ
سن کے اشعار تِرے ناچنے گانے لگ جائیں
فرحت احساس
No comments:
Post a Comment