راہ کی کچھ تو رکاوٹ یار کم کر دیجیۓ
آپ اپنے گھر کی اک دیوار کم کر دیجیۓ
آپ کا عاشق بہت کمزور دل کا ہے حضور
دیکھیۓ یہ شدتِ انکار کم کر دیجیۓ
میں بھی ہونٹوں سے کہوں گا کم کریں جلنے کا شوق
آپ اگر سرگرمئ رخسار کم کر دیجیۓ
ایک تو شرم آپ کی اور اس پہ تکیہ درمیاں
دونوں دیواروں میں اک دیوار کم کر دیجیۓ
آپ تو بس کھولیۓ لب بوسہ دینے کے لیے
بوسہ دینے پر جو ہے تکرار کم کر دیجیۓ
رات کے پہلو میں پھیلا دیجیۓ زلف دراز
یوں ہی کچھ طولِ شبِ بیمار کم کر دیجیۓ
یا ادھر کچھ تیز کر دیجے گھروں کی روشنی
یا ادھر کچھ رونقِ بازار کم کر دیجیۓ
وہ جو پیچھے رہ گئے ہیں تیز رفتاری کریں
آپ آگے ہیں تو کچھ رفتار کم کر دیجیۓ
ہاتھ میں ہے آپ کے تلوار، کیجے قتلِ عام
ہاں مگر تلوار کی کچھ دھار کم کر دیجیۓ
بس محبت، بس محبت، بس محبت، جانِ من
باقی سب جذبات کا اظہار کم کر دیجیۓ
شاعری تنہائی کی رونق ہے محفل کی نہیں
فرحت احساس اپنا یہ دربار کم کر دیجیۓ
فرحت احساس
No comments:
Post a Comment