غم میرا مِرے یار نہ غمخوار غلط ہے
رستہ یہ محبت ہی کا سرکار غلط ہے
ایسا تو نہیں کہتا کہ ہر بار غلط ہے
لیکن تِرا ہر بات پہ اصرار غلط ہے
یاروں کو بھی حق ہے کہ لڑیں سامنے آ کر
دشمن بھی کرے پیٹھ پہ گر وار، غلط ہے
پلکوں سے چنے میں نے تِری راہ کے کانٹے
پھر بھی جو تِرے دل میں رہے خار، غلط ہے
آنکھوں پہ رکھے پردہ کوئی دل میں گھسے کیسے
در ہونا تھا جس جا پہ، ہے دیوار، غلط ہے
شہزاد احمد شاذ
No comments:
Post a Comment