بنتا ہے مگر جشن منانے سے رہا میں
بچوں کی طرح ناچنے گانے سے رہا میں
اک زخم جو میرے لیے کعبے کی طرح ہے
ہر شخص کو اندر سے دکھانے سے رہا میں
دل میں بھی نکل سکتی ہے گجائشِ دنیا
لیکن اسے بازار بنانے سے رہا میں
کانوں میں فقط زہر بھرے جس کا خلاصہ
اس بات کی تفصیل میں جانے سے رہا میں
دن میرا بھی ہر شام نگل جاتی ہے لیکن
چڑیوں کی طرح شور مچانے سے رہا میں
اب اس سے نکلنے کا بہانہ نہیں ملتا
جس دل میں محبت کے بہانے سے رہا میں
لکھوا لو پتہ گھر کا کبیر اپنے بدن پر
ہر بار تمہیں ڈھونڈ کے لانے سے رہا میں
کبیر اطہر
No comments:
Post a Comment