اترا ہے پچپن برسوں کے روشن زینوں سے
یہ جو نور کا بور ہے مجھ پر چند مہینوں سے
کھل کر بات کروں گا خیر کے امکانات پہ میں
شہرِ خواب سے ہجرت پر مجبور مکینوں سے
میں نے اینٹ کا تکیہ رکھا خاک کی چادر پر
کون ہٹاتا اٹھ اٹھ کر جوتے قالینوں سے
گاہے گاہے چونک اٹھتا ہوں خود میں بیٹھا میں
ایسی آہٹ آتی ہے اعصاب کے زینوں سے
جانے مجھ کو عہدِ حاضر کیسے لیتا ہے
اسے ملا ہوں ماضی کے غرقاب سفینوں سے
ان کی رائے گہن زدہ ہے آپ کے بارے میں
جن کا واسطہ پڑتا ہے مہتاب جبینوں سے
میں نے غالب اور فیصل کو پڑھ کر سیکھا ہے
کام قدیمی جاری رکھنا نئے قرینوں سے
کبیر اطہر
No comments:
Post a Comment