ہماری زیر کو ظالم زبر سمجھتی ہے
دلوں کی آیتیں دنیا کدھر سمجھتی ہے
اگرچہ بر سرِ بازار ہے مگر خود کو
برہنگی پسِ دیوار و در سمجھتی ہے
پلی بڑھی ہے یہ خلقت خراب خبروں میں
سو کم بری ہو تو اچھی خبر سمجھتی ہے
تِرے مکاں کے دریچے کے بعد دنیا میں
مِری طلب کو تِری رہگزر سمجھتی ہے
لڑا نہ دے کہیں فرقت کے دیو سے مجھ کو
یہ زندگی مجھے جتنا نڈر سمجھتی ہے
میں ایسے ہوتا ہوں تصویر دیکھ کر اس کو
مجھے لگا ہوا دیوار پر سمجھتی ہے
میں اس لیے بھی اسے ٹوکنے سے ڈرتا ہوں
اداسی اپنا کہا معتبر سمجھتی ہے
جبھی تو ڈر کے گزرتی ہے میری فکرِ سخن
یہ شہرِ حرف کو جادو نگر سمجھتی ہے
گزر بھی سکتا ہے مہتاب میرے سینے سے
کہ روشنی مجھے راہِ سفر سمجھتی ہے
میں خود پہ جبر کروں گا کہ موجِ آب کبیر
ہو محوِ رقص تو خلقت بھنور سمجھتی ہے
کبیر اطہر
No comments:
Post a Comment