ہمیں تو حکمِ مجاوری ہے
مزارِ دل میں ہے کون مدفن
یہ کس عروسہ کا مقبرہ ہے
نہ کوئی کتبہ، نہ کوئی تختی
نہ سنگِ مرمر کی سِل پہ لکھا ہوا
محبت کا کوئی شعر
فقط سرہانے سے پائنتی تک
امر کی بِیل اک لپٹ گئی
جو اِک زمانے سے کہہ رہی ہے
یہاں ٹھکانہ تھا عاشقی کا
یہ پِیر خانہ تھا عاشقی کا
کِسے خبر کہ یہاں ہے مدفن
فقیر کوئی، اسیر کوئی
یا پھر ہے وارث کی ہیر کوئی
مگر ہمیں مجال ہی کیا
یہاں جو بولیں، زباں کھولیں
ہمارے لب تو سِلے ہوئے ہیں
نہ جانے کب سے سِلے ہوئے ہیں
ہمیں تو حکمِ مجاوری ہے
عاطف جاوید عاطف
No comments:
Post a Comment