Saturday, 5 February 2022

فکر غربت ہے نہ اندیشۂ تنہائی ہے

 فکر غربت ہے نہ اندیشۂ تنہائی ہے

زندگی کتنے حوادث سے گزر آئی ہے

لوگ جس حال میں مرنے کی دعا کرتے ہیں

میں نے اس حال میں جینے کی قسم کھائی ہے

ہم نہ سقراط، نہ منصور، نہ عیسیٰ لیکن

جو بھی قاتل ہے، ہمارا ہی تمنائی ہے

زندگی اور ہیں کتنے تِرے چہرے یہ بتا

تجھ سے اک عمر کی حالانکہ شناسائی ہے

کون ناواقفِ انجام تبسم ہے امیر

میرے حالات پہ یہ کس کو ہنسی آئی ہے


امیر قزلباش

No comments:

Post a Comment