پرتو افگن رخِ پُر نور ہوا خوب ہُوا
قصرِ دل نور سے معمور ہوا خوب ہوا
رازِ مخفی کیا اظہار تو کم ظرفی تھی
لائقِ دار جو منصور ہوا خوب ہوا
تا ابد تیری نشانی یہ رہی اے قاتل
زخم دل کا میرے ناسور ہوا خوب ہوا
کون محفل ہے جو ہے یاد سے اس کی خالی
جا بجا یار کا مذکور ہوا خوب ہوا
بار سب کی جو امامت کا لیا زاہد نے
اپنی شیخی سے یہ مزدور ہوا خوب ہوا
شش جہت میں تو دکھاتا ہے وہ اپنا جلوہ
پِھر بھی پردہ اسے منظور ہوا خوب ہوا
روز محفل سے جو غیروں کو نکلواتا ہے
اس کا بہرام! یہ دستور ہوا خوب ہوا
بہرام جی
No comments:
Post a Comment