Thursday, 13 October 2022

سپنوں کا پالتا نہیں آزار خود سے میں

 سپنوں کا پالتا نہیں آزار خود سے میں

جاتا نہیں ہوں نیند کے اس پار خود سے میں

اس درجہ خود غرض ہوں کہ مشکل پڑے اگر

رکھتا نہیں ہوں کوئی سروکار خود سے میں

یہ کام مجھ میں ہوتا ہے خودکار چاک پر

شعروں کو شکل دیتا نہیں یار خود سے میں

اک ہاتھ ہے کہ چاہتا ہے آئینہ بنوں 

ملتا نہیں ہوں پیٹھ پہ زنگار خود سے میں

پکڑا گیا ہوں اپنی جڑیں کاٹتے ہوئے

واپس پلٹ نہیں سکا اس بار خود سے میں

گھر میں لگی ہوئی سبھی گھڑیاں اتار کر

طے کر رہا ہوں وقت کی رفتار خود سے میں

کر دی ہے میری عمر نے کایا کلپ مِری

کرتا نہیں رقیب کا کردار خود سے میں

بچوں کی طرح کھیلتے ہیں مجھ سے دکھ کبیر

ہوتا نہیں ہوں ٹوٹ کے بیکار خود سے میں


کبیر اطہر

No comments:

Post a Comment