سپنوں کا پالتا نہیں آزار خود سے میں
جاتا نہیں ہوں نیند کے اس پار خود سے میں
اس درجہ خود غرض ہوں کہ مشکل پڑے اگر
رکھتا نہیں ہوں کوئی سروکار خود سے میں
یہ کام مجھ میں ہوتا ہے خودکار چاک پر
شعروں کو شکل دیتا نہیں یار خود سے میں
اک ہاتھ ہے کہ چاہتا ہے آئینہ بنوں
ملتا نہیں ہوں پیٹھ پہ زنگار خود سے میں
پکڑا گیا ہوں اپنی جڑیں کاٹتے ہوئے
واپس پلٹ نہیں سکا اس بار خود سے میں
گھر میں لگی ہوئی سبھی گھڑیاں اتار کر
طے کر رہا ہوں وقت کی رفتار خود سے میں
کر دی ہے میری عمر نے کایا کلپ مِری
کرتا نہیں رقیب کا کردار خود سے میں
بچوں کی طرح کھیلتے ہیں مجھ سے دکھ کبیر
ہوتا نہیں ہوں ٹوٹ کے بیکار خود سے میں
کبیر اطہر
No comments:
Post a Comment