سخن کی داد پائیں گے اسی بیداد سے جا کر
شکایت کر رہا ہے جو مِری نقاد سے جا کر
عمارت ظلم کی ہر چند پہنچے چرخ ہفتم تک
اسے ملنا پڑے گا ایک دن بنیاد سے جا کر
قفس میں کرگس و شاہین دونوں کیوں برابر ہیں؟
یہ نکتہ پوچھ لینا طائر آزاد سے جا کر
نہ آیا کام میدان عمل میں لاکھ کوشش کی
شرافت کا سبق سیکھا تھا جو استاد سے جا کر
انا قسطوں میں مرجاتی ہے اس خوددار والد کی
بیاں کر نی پڑے حاجت جسے اولاد سے جا کر
نظر سے دور رہ کر دھڑکنوں میں تھے جو برسوں سے
وہ چہرے پھر نہ لوٹے خانۂ برباد سے جا کر
خدا معلوم اس تہذیب نو کا حشر کیا ہو گا؟
مرصع ساز بھی جس کے ملیں حداد سے جا کر
کہانی گندم و جو کی سنیں گے بالمشافہ ہم
مقدر میں اگر ملنا لکھا، اجداد سے جا کر
یگانہ یاس چنگیزی ذلیل و خوار ہو بیٹھے
اودھ کی تیرہ گلیوں میں عظیم آباد سے جا کر
عجب کیا ہے جلیل ایسا اگر ہو عہد حاضر میں
کہ شیشہ لڑ پڑے خود ہی کسی فولاد سے جا کر
جلیل نظامی
No comments:
Post a Comment