Sunday, 21 March 2021

مری حیات ابھی جس کے انتظار میں ہے

 مِری حیات ابھی جس کے انتظار میں ہے

وہ لمحہ کس کے خدا جانے اختیار میں ہے

یہ پھول کانٹے بہت ہی عزیز ہیں ہم کو

ہمارے ماضی کی خوشبو اسی بہار میں ہیں

کرے گا کیسے کوئی منزلوں کا اندازہ

ابھی تو کارواں خود پردۂ غبار میں ہے

نہ جانے کب یہ قفس زندگی کا ٹوٹے گا

ابھی حیات مِری درد کے حصار میں ہے

زمانہ ٹوکتا جاتا ہے اس طرح مجھ کو

کہ جیسے ترکِ وفا میرے اختیار میں ہے

عجیب تاج یہاں نظمِ زندگانی ہے

ہے گلستاں میں کوئی کوئی لالہ زار میں ہے


فاطمہ تاج

No comments:

Post a Comment