اگرچہ وقت مناجات کے حصار میں ہے
ہمارا ہونا سوالات کے حصار میں ہے
اسے میں لمس کے منتر سے رام کر لوں گی
ابھی وہ جسم کرامات کے حصار میں ہے
ہماری آنکھ ہے رونے کی منتظر ایسے
کہ جیسے دشت بخارات کے حصار میں ہے
بھلا وہ کیسے دھڑک پائے اپنی مرضی سے
جو دل کسی کی عنایات کے حصار میں ہے
میں چاہتی ہوں مجھے دن میں بھی نظر آئے
وہ چاند ہے سو ابھی رات کے حصار میں ہے
اسی کی آب و ہوا زندگی کی ضامن ہے
یہاں جو شہر مضافات کے حصار میں ہے
اسی لیے تو عذابوں میں گھر گئی ناہید
مِری زمین سماوات کے حصار میں ہے
ناہید کیانی
No comments:
Post a Comment