Sunday, 21 March 2021

اگرچہ وقت مناجات کے حصار میں ہے

 اگرچہ وقت مناجات کے حصار میں ہے

ہمارا ہونا سوالات کے حصار میں ہے

اسے میں لمس کے منتر سے رام کر لوں گی

ابھی وہ جسم کرامات کے حصار میں ہے

ہماری آنکھ ہے رونے کی منتظر ایسے

کہ جیسے دشت بخارات کے حصار میں ہے

بھلا وہ کیسے دھڑک پائے اپنی مرضی سے

جو دل کسی کی عنایات کے حصار میں ہے

میں چاہتی ہوں مجھے دن میں بھی نظر آئے

وہ چاند ہے سو ابھی رات کے حصار میں ہے

اسی کی آب و ہوا زندگی کی ضامن ہے

یہاں جو شہر مضافات کے حصار میں ہے

اسی لیے تو عذابوں میں گھر گئی ناہید

مِری زمین سماوات کے حصار میں ہے


ناہید کیانی

No comments:

Post a Comment