دعا
دعا میں ایک ربط ہے
کہ جیسے دن نکل پڑے
تو پھر بھی رات کے اُدھار میں کوئی کمی نہ ہو
دعا میں ایک راز ہے
شکاریوں کے تیر پنچھیوں کی ڈار چھید دیں
تو پھر بھی آسمان پہ لہو کا اک نشاں نہ ہو
قطار کم نہ ہو
شکار کم نہ ہو
دعا میں ایک نظم ہے
کہ وسوسے بھرے دلوں کے مرگھٹوں میں
سچ کی لاش جل رہی ہو، ایک قتلِ عام ہو
غلام ہو، غلام ہو کا شور ہو
جہاں پہ ہاتھ ہاتھ کو سُجھائی دے
نہ روشنی کا گُزر ہو
تو پھر بھی جسم اک چراغ ہو کہ
جس کی لو میں کچھ کمی نہ ہو
جبین بوسوں سے بھری رہے
اور آنکھ میں نمی نہ ہو
دعا میں ایک ڈھنگ ہے
بدی کی شب میں نیک جام کی طرح
مُسافرت میں گھر کی شام کی طرح
صعوبتوں میں صبحِ انتظام کی طرح
دعا میں ایک درد ہے
دعا میں اک طبیب ہے
مِری خراش در خراش زندگی میں
تیرے ملنے اور بچھڑنے کی طرح
صدیق شاہد
No comments:
Post a Comment