Monday, 14 September 2020

تجھے میں کسی دوسرے دن اکیلا ملوں گا

ہم اکیلے ملیں گے


معذرت چاہتا ہوں

تجھے میں کسی دوسرے دن اکیلا ملوں گا

میں خلوت پسند اور بجھیل آدمی ہوں

سو بالائی بالائی باتیں نہیں کر سکوں گا

سمندر کے لیول سے لازم گروں گا

گراں بار پتھر کے مانند

گہرائیوں میں اترنے کی کوشش کروں گا

بہت عامیانہ سی باتوں میں، علم و ادب 

اور دانش کے مضبوط تر لاسٹک کو پرو کر

میں قطبِ شمالی سے قطبِ جنوبی تلک،

طول و عرض البلد کی لکیروں کے مدمقابل کسوں گا

میں باتوں کا پورا تناظر سمجھنے کی کوشش کروں گا

سو بہتر یہی ہے تجھے میں کسی دوسرے دن اکیلا ملوں گا

یہ کیسے عجب لوگ تیرے تقرب میں ہیں

ایسے لسان و بسیار گو، بھڑبھڑیوں کے آگے

میں مورت بنا ایک عجمی دکھوں گا

کہ میں عورتوں اور مردوں کے کپڑوں کے نو سو چوالیس

جوتوں کے دوسو بیالیس، آرائیشِ مو کے پن سو چھیالیس

اور گاڑیوں کی کئی ایک نسلوں وغیرہ کے 

اسماء سے ناآشنا ہوں

میں آدم کی اولادِ ناخواندہ ہوں

سو ترے مقرب فرشتہ صفت دوستوں میں 

خجل خوار ہوں گا

تجھے میں کسی دوسرے دن اکیلا ملوں گا


سرمد سروش

No comments:

Post a Comment