Monday, 14 September 2020

کہاں ہے کوئی خدا کا خدا کے بندوں میں

کہاں ہے کوئی خدا کا خدا کے بندوں میں 
گھرا ہوا ہوں ابھی تک انا کے بندوں میں 
نہ کوئی سمت مقرر، نہ کوئی جائے قرار 
ہے انتشار کا عالم ہوا کے بندوں میں 
وہ کون ہے جو نہیں اپنی مصلحت کا غلام 
کہاں ہے بُوئے وفا، اب وفا کے بندوں میں 
خدا کرے کہ سماعت سے میں رہوں محروم 
کبھی جو ذکر ہو میرا رِیا کے بندوں میں
سزائیں میری طرح ہنس کے جھیلنے والا
نہیں ہے کوئی بھی عہدِ سزا کے بندوں میں 
نا عافیت کی سحر ہے نہ انبساط کی شام 
ہوں ایک عمر سے صحرا بلا کے بندوں میں 
سخن شناس ہے کتنا یہ پوچھ لوں قیصر
نظر وہ آئے جو حرف و نوا کے بندوں میں 

قیصر شمیم

No comments:

Post a Comment