کچھ ایسے نظر صاحبِ کردار بھی آئے
تعظیم کو جن کی در و دیوار بھی آئے
تاریکئ شب نے مِرا دامن نہیں چھوڑا
حالانکہ نظر صبح کے آثار بھی آئے
اے وعدہ فروشو! ہمیں حیرت سے نہ دیکھو
ٹھہرے نہ کبھی تیشہ بدستوں کے مقابل
کہنے کو بہت راہ میں کہسار بھی آئے
ہر روز مِرے جسم کو ڈستی ہے یہی دھوپ
سورج کی طرح سایۂ دیوار بھی آئے
عزم شاکری
No comments:
Post a Comment