Monday, 14 September 2020

سورج ڈھلا تو درد اٹھا ہے میں کیا کروں

سورج ڈھلا تو درد اٹھا ہے، میں کیا کروں
میرا یہ ضبط ٹوٹ چکا ہے، میں کیا کروں
ہارے ہوئے وجود پہ خوں خرچ رہا ہوں
منہ کو کلیجہ آن چلا ہے، میں کیا کروں
بڑھتا ہوا سکون کیا طوفان لائے گا
ساون کی طرح حبس ہوا ہے، میں کیا کروں
وہ میری روح میں جو اتر سا گیا تھا ناں
اپنا وجود مانگ رہا ہے، میں کیا کروں
لڑنا تھا اس نے مجھ کو منانے کی غرض سے
الٹا وہ چھوڑ چھاڑ گیا ہے، میں کیا کروں
باقی، یہ دل کی آگ نہیں بجھ رہی ابھی
سینے میں اک الاؤ جلا ہے، میں کیا کروں

وجاہت باقی

No comments:

Post a Comment