سورج ڈھلا تو درد اٹھا ہے، میں کیا کروں
میرا یہ ضبط ٹوٹ چکا ہے، میں کیا کروں
ہارے ہوئے وجود پہ خوں خرچ رہا ہوں
منہ کو کلیجہ آن چلا ہے، میں کیا کروں
بڑھتا ہوا سکون کیا طوفان لائے گا
وہ میری روح میں جو اتر سا گیا تھا ناں
اپنا وجود مانگ رہا ہے، میں کیا کروں
لڑنا تھا اس نے مجھ کو منانے کی غرض سے
الٹا وہ چھوڑ چھاڑ گیا ہے، میں کیا کروں
باقی، یہ دل کی آگ نہیں بجھ رہی ابھی
سینے میں اک الاؤ جلا ہے، میں کیا کروں
وجاہت باقی
No comments:
Post a Comment