Monday, 14 September 2020

الٹی سیدھی باتیں اچھی لگتی ہیں

الٹی سیدھی باتیں اچھی لگتی ہیں
رستے اور کتابیں اچھی لگتی ہیں
وہ تو یونہی پیار میں تیرے ہار گئے
ورنہ کس کو ماتیں اچھی لگتی ہیں
تم کو آنکھ میں آنسو اچھے لگتے ہیں
اور مجھ کو برساتیں اچھی لگتی ہیں
جو بھی جس کردار کا مالک ہوتا ہے
اس کو ویسی باتیں اچھی لگتی ہیں
دن کا نور ہے دشمن، اس کے جوبن کا
میرے چاند کو راتیں اچھی لگتی ہیں
چپ رہ کر سہنے میں کتنی لذت ہے
کہہ نہ سکے جو باتیں اچھی لگتی ہیں

شائستہ سحر

No comments:

Post a Comment