الٹی سیدھی باتیں اچھی لگتی ہیں
رستے اور کتابیں اچھی لگتی ہیں
وہ تو یونہی پیار میں تیرے ہار گئے
ورنہ کس کو ماتیں اچھی لگتی ہیں
تم کو آنکھ میں آنسو اچھے لگتے ہیں
جو بھی جس کردار کا مالک ہوتا ہے
اس کو ویسی باتیں اچھی لگتی ہیں
دن کا نور ہے دشمن، اس کے جوبن کا
میرے چاند کو راتیں اچھی لگتی ہیں
چپ رہ کر سہنے میں کتنی لذت ہے
کہہ نہ سکے جو باتیں اچھی لگتی ہیں
شائستہ سحر
No comments:
Post a Comment