ہرِ خواب و خبر میں ہم بھی ہیں
اک سخن کے اثر میں ہم بھی ہیں
اے کہانی! ہمارے ساتھ بھی چل
دیکھ، اگلے سفر میں ہم بھی ہیں
تم نے دیکھی نہیں جڑیں اس کی
سبز ہوتے شجر میں ہم بھی ہیں
کچھ ہمیں بھی نمو سے نسبت ہے
برگ و گل میں ثمر میں ہم بھی ہیں
اک ستارہ☆ ہے رو برو اطہر
جس کی اُجلی نظر میں ہم بھی ہیں
ممتاز اطہر
No comments:
Post a Comment