رسوا بھی ہوئے جام پٹکنا بھی نہ آیا
رندوں کو سلیقے سے بہکنا بھی نہ آیا
وہ لوگ مِری طرزِ سفر جانچ رہے ہیں
منزل کی طرف جن کو ہمکنا بھی نہ آیا
تھا جن میں سلیقہ وہ بھری بزم میں روئے
ہم کو تو کہیں چھپ کے سسکنا بھی نہ آیا
ہم ایسے بلا نوش کہ چھلکاتے ہی گزری
تم ایسے تنک ظرف چھلکنا بھی نہ آیا
ہم جاگ رہے تھے سو ابھی جاگ رہے ہیں
اے ظلمتِ شب! تجھ کو تھپکنا بھی نہ آیا
للچائی کوئی زلف، نہ مچلا کوئی دامن
اس باغ کے پھولوں کو مہکنا بھی نہ آیا
کمبخت سوئے دیر و حرم بھاگ رہی ہیں
گلشن کی ہواؤں کو سنکنا بھی نہ آیا
لہراتی ذرا پیاس،۔ ذرا کان ہی بجتے
ان خالی کٹوروں کو کھنکنا بھی نہ آیا
اعزاز افضل
No comments:
Post a Comment