Monday, 15 November 2021

عشق مجبور فغاں اے دل ناشاد نہیں

 عشق مجبورِ فغاں اے دلِ ناشاد نہیں

یہ تو اک حسن کی تائید ہے فریاد نہیں

لذتِ بے خودئ دید کی روداد نہ پوچھ

اک فسانہ ہے جو کچھ یاد ہے کچھ یاد نہیں

ایک پابندِ وفا،۔ ایک جفا کا پابند

عشق مجبور سہی حسن بھی آزاد نہیں

حسن معنی کی تماشائی ہیں نظریں میری

پڑھ رہا ہوں وہ صحیفے جو مجھے یاد نہیں

اور بیدار ہوا عشق و وفا کا احساس

کون کہتا ہے کہ کچھ حاصل بیداد نہیں

میرے معیار محبت کو نہ پوچھو مجھ سے

انتہا یہ ہے کہ اب تم بھی مجھے یاد نہیں

خاک سمجھے گا وہ اسرار محبت اے دوست

جو مِری طرح تِرے عشق میں برباد نہیں

میرے دل میں تِری تسکین کے سو پہلو تھے

او مِرے بھولنے والے تجھے کیا یاد نہیں

یاس و حرماں کا یہ عالم ہے کہ اللہ اللہ

اب یہ دل تیرے تصور سے بھی آباد نہیں

لذتِ عشق ہے بے داد و ستم کے دم سے

وہ چمن ہی نہیں جس میں کوئی صیاد نہیں

اب بھی ملتا ہے مجھے آرزو عشرت کا پیام

مائلِ عشق مگر خاطرِ ناشاد نہیں


آرزو سہارنپوری

No comments:

Post a Comment