Monday, 15 November 2021

خوشبو جو تخیل میں ہے فن میں بھی وہی ہے

 خوشبو جو تخیل میں ہے فن میں بھی وہی ہے

دل میں جو ہمارے ہے سخن میں بھی وہی ہے

محسوس ہو خطرہ جو شناور کو بھنور میں 

اے یار! تِرے چاہِ ذقن میں بھی وہی ہے

تہذیب پتہ چلتی ہے انساں کی زباں سے

ویسے تو میاں مشکِ ختن میں بھی وہی ہے

معیار پہ اترا ہے زمانے کے جو سکہ

قیمت بھی اسی کی ہے چلن میں بھی وہی ہے

گر آنکھ سے ٹپکے تو مزہ اور ہی کچھ ہے

کہنے کو لہو پورے بدن میں بھی وہی ہے

عاشق کو جو محبوب کی زلفوں میں ہے راحت 

منصور کو دار اور رسن میں بھی وہی ہے

قصہ ہے شبِ ہجر کا تکیے کی نمی میں 

بکھرے ہوئے بستر کی شکن میں بھی وہی ہے

اسلاف سے بے باک طبیعت ملی ہم کو

اور جرأت اظہار، سخن میں بھی وہی ہے

محسوس گھٹن ہوتی ہے پردیس میں مجھ کو

جبکہ میاں! ماحول وطن میں بھی وہی ہے

آئینے کو مکاری نہیں آتی ہے یارو

طالب کی زباں پر ہے جو، من میں بھی وہی ہے


متین طالب

No comments:

Post a Comment