Friday, 19 November 2021

دل میں کیا بات کھٹکنے لگی ہے

 دل میں کیا بات کھٹکنے لگی ہے

وقت کی سانس اٹکنے لگی ہے

میں نے رکھا ہے دریچے میں دیا

اور ہوا راہ بھٹکنے لگی ہے

عشق تھا پہلے پڑاؤ پہ ابھی

پھر نٸی آگ دہکنے لگی ہے

مجھ کو بھی خواب نے گھیرا ہوا ہے

رات بھی آنکھ جھپکنے لگی ہے

ایک دھندلی سی کسی یاد کی لَو

کتنی یادوں میں دمکنے لگی ہے

کوٸی صحرا مِرے اندر ہے رواں

ریت آنکھوں سے ٹپکنے لگی ہے

اب ترا ساتھ ضروری ہے مجھے

زندگی ہاتھ جھٹکنے لگی ہے

کون اطہر اسے کاٹے گا بھلا

درد کی فصل تو پکنے لگی ہے


ممتاز اطہر

No comments:

Post a Comment