دل میں کیا بات کھٹکنے لگی ہے
وقت کی سانس اٹکنے لگی ہے
میں نے رکھا ہے دریچے میں دیا
اور ہوا راہ بھٹکنے لگی ہے
عشق تھا پہلے پڑاؤ پہ ابھی
پھر نٸی آگ دہکنے لگی ہے
مجھ کو بھی خواب نے گھیرا ہوا ہے
رات بھی آنکھ جھپکنے لگی ہے
ایک دھندلی سی کسی یاد کی لَو
کتنی یادوں میں دمکنے لگی ہے
کوٸی صحرا مِرے اندر ہے رواں
ریت آنکھوں سے ٹپکنے لگی ہے
اب ترا ساتھ ضروری ہے مجھے
زندگی ہاتھ جھٹکنے لگی ہے
کون اطہر اسے کاٹے گا بھلا
درد کی فصل تو پکنے لگی ہے
ممتاز اطہر
No comments:
Post a Comment