در کھلے تھے آنکھ کی دہلیز تک تم آ گئے
تم مِرے خوابوں کی دنیا میں مکمل چھا گئے
ضبط کی گرہیں کھلیں ہاتھوں سے میرے اس طرح
ریزہ ریزہ خواہشوں کے عکس بھی دھندلا گئے
بارشیں کچھ اس طرح سے تیز اب ہونے لگیں
یعنی سب کچے مکاں پانی کی زد میں آ گئے
ملک کی دولت ہے لوٹی حکمرانوں نے یہاں
ملک کے دشمن عناصر ملک سارا کھا گئے
پھول ہاتھوں سے اگائے تھے کبھی جو صحن میں
دھوپ کی شدت سے سارے پھول ہے کملا گئے
لوگ چاہت سے ملا کرتے تھے میرے دوست سے
لوگ سارے نام اپنی زندگی میں پا گئے
ہم نے تمثیلہ جسے بھی ٹوٹ کر چاہا کبھی
وہ ہماری چاہتوں کو کس طرح ٹھکرا گئے
تمثیلہ لطیف
No comments:
Post a Comment