ڈرپوک لڑکی
ایک دن وہ کہنے لگی
میری حسرت ہے
ایک کپ چائے
آپ کے ساتھ پینے کی
آپ کے خیال میں جینے کی
کتنا رومانٹک ہے نا
چائے آپ کے ساتھ پینا
وہ بولا
اس میں
کیا مشکل ہے
آ جاؤ
آج ہی پی لیتے ہیں
سڑک کنارے کیفے میں ملتے ہیں
وہ
وہ چپ رہی
بولی تو رو دی
جو کام خواب میں
ممکن نہیں
وہ حقیقت کا روپ
دھارے کیسے
وہ بولا
خواب
ہاں
چائے ٹیبل پہ رکھنا
تکلفاً چینی ڈالنا
ہلانا، ملانا، گھلانا
چمچ کی موسیقی سے
دائرے بنانا
ہر ہر دائرے میں
سو سو بھنور بنانا
ہر بھنور میں
دھڑکنوں کا شور مچانا
پلکیں گِرانا
پلّو اُٹھانا
اضطرار میں
انگلیاں باہم مِلانا
ہموار سانس میں
دھونکنی چلانا
پیوستہ ہونٹ
کپکپانا
نم ہوتی مٹھی میں
ٹشو دبانا
اف کپوں کا لڑکھڑانا
ایک دوسرے سے ٹکرانا
اور، اور
بوجھل پن سے
آنکھ کُھل جانا
اف، اف، جو بات خواب میں ممکن نہ ہو
وہ حقیقت میں
زارا مظہر
No comments:
Post a Comment