Tuesday, 8 June 2021

اس نگاہ ناز نے یوں رات بھر تجسیم کی

اس نگاہِ ناز نے یوں رات بھر تجسیم کی

سب چراغوں میں برابر روشنی تقسیم کی

رات پیچھے پڑ گئی تھی خوف کے سائے لیے

خواب سے آگے نکل کر وقت میں ترمیم کی

آئینہ ہو جائے گا یہ دشت مجھ پر ایک دن

گرہیں کھلتی جا رہی ہیں احسنِ تقویم کی

شہد کا بھی ذکر ہو سکتا تھا ہونے کو، مگر

اس کے لہجے کے مطابق بات چھیڑی نیم کی

میں ہی تھا اپنے مقابل خواہشوں کی دوڑ میں

ہارنا مشکل لگا،۔ سو جیت ہی تسلیم کی

شام ہوتے ہی چراغوں کو سجایا طاق میں

سارا دن سو کر گزارا، رات کی تعظیم کی

عمر بھر سورج کے آگے ہاتھ پھیلائے مگر

اک ستارے نے مجھے یہ روشنی تعلیم کی

میں نے زیب اس کو محبت میں کہا تھا مجھ سے مل

اس نے میری بات کی کتنی غلط تفہیم کی


زیب اورنگ زیب

No comments:

Post a Comment