میری کوئی بات نہ مانی
کر دی محنت پانی پانی
دھوکے کا اک پل آیا اور پھسل گیا میں
اسٹیشن سے پہلے پٹڑی بدل گیا میں
اب میں کیا ہوں؟
اور بھڑکتی آگ کی شدت
اور زیادہ لت میں لت پت
اور زیادہ عِلت کا احساسِ قلت
لذت کی پیکنگ کے اندر گہری ذلت
کوشش تو کوشش ہے بابا
چھوڑنے کی خواہش بھی چُھوٹی
طاقت کا طنطنہ بھی رُوٹھا
حوصلے کی مٹکی بھی پھُوٹی
خواہش اور کوشش کے اِس
جھگڑے سے میری جان چھُڑا دیں
بابا کوئی حل بتلا دیں
بابا بولے سن رے بھُولے
آدھے پونے ایک اور ڈیڑھ سے
کب چھُٹتی ہے کس کی جان
تینوں چھوڑ دے وہ بھی یکدم
کھیل، کھلاڑی اور میدان
عمران شمشاد
No comments:
Post a Comment