Tuesday, 8 June 2021

عشق کا وجدان یارا عشق ہے

 عشق کا وجدان یارا عشق ہے

سر جھکا سارے کا سارا عشق ہے

چاند تارے بادلوں کی اوٹ سے

کہہ رہے تھے یار پیارا عشق ہے

عقل کی رعنائیاں تک جھوم کر

کہہ رہی ہیں سب خسارا عشق ہے

میری ٹیبل پر تمہاری یاد کے

سب لفافوں نے پکارا؛ عشق ہے

زندگی کے آخری صفحے پہ بھی

دل نے لکھا تھا سہارا عشق ہے

روح کی یلغار پر بادِ صبا

چیخ کے بولی ہمارا عشق ہے

عقل کا بستر سجانے کے لیے

شہر میں میں نے اتارا عشق ہے

بوجھ بنتا جا رہا تھا اس لیے

شوق نے دل سے اتارا عشق ہے


مدیحہ شوق

No comments:

Post a Comment