عشق کا وجدان یارا عشق ہے
سر جھکا سارے کا سارا عشق ہے
چاند تارے بادلوں کی اوٹ سے
کہہ رہے تھے یار پیارا عشق ہے
عقل کی رعنائیاں تک جھوم کر
کہہ رہی ہیں سب خسارا عشق ہے
میری ٹیبل پر تمہاری یاد کے
سب لفافوں نے پکارا؛ عشق ہے
زندگی کے آخری صفحے پہ بھی
دل نے لکھا تھا سہارا عشق ہے
روح کی یلغار پر بادِ صبا
چیخ کے بولی ہمارا عشق ہے
عقل کا بستر سجانے کے لیے
شہر میں میں نے اتارا عشق ہے
بوجھ بنتا جا رہا تھا اس لیے
شوق نے دل سے اتارا عشق ہے
مدیحہ شوق
No comments:
Post a Comment