گانگن
کل شام میں سو رہی تھی
آنکھوں کی نمی گال بھگو رہی تھی
اچانک بہت دن بعد اس کا فون تھا
آواز میں بعد کرب گزرنے کا سکون تھا
کہا اس نے؛ بہت تکلیف میں ہوں
جانِ جاں! تمہاری ردیف میں ہوں
اف وہ رس بھری باتیں اس کی
جی کو برماتی مناجاتیں اس کی
کمال اس کا وہ لہجہ انگبیں
وقت سارے کا سارا نور آگیں
کئی جگہ پہ سانس اٹکا تھا
اور بہت دفعہ دھیان بھٹکا تھا
چپ لمحے بھی ہوئے مشروح
سانسیں بھی اسی کی ممدوح
جب دم ہوا دمِ واپسیں
تو دل کو ہونے لگا یقیں
وہ لوٹ آئے گا
وہ لوٹ آئے گا
زارا مظہر
No comments:
Post a Comment